Skip to main content

उर्दू क्लासेस 12 सबक एक मकतूब नगारी का फ़न

सबक 01
مکتوب نگاری

بعض اہل قلم نے مکتوب نگاری کو ایک لطیف فن قرار دیا ہے۔ ایسے خطوط بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں اعلیٰ تخلیقی ادب کی را پائی جاتی ہے۔

مکتوب نگاری شخصی اظہار کی ایک شکل ہے۔ مکتوب نگار کا مخاطب کوئی ایک شخص ہوتا ہے جب کہ ادب کی دوسری اریا " میں ایک ساتھ کئی لوگ مخاطب ہوسکتے ہیں۔ کچھ ادیبوں نے اسے عمدہ خط لکھے ہیں کہ اب مکتوب نگاری کو ایک ادبی صنف کام ہے حاصل ہو چکا ہے۔ ایسے خطوط کا مطالعہ اس اعتبار سے اور بھی دل چسپ ہو جاتا ہے۔ با

مکتوب نگار کا خط کوئی ہو، اگر مکتب نگار کی تحیر میں کش ہو تو خط ہر پڑھنے والے کے لیے دل چسپ ہوسکتا ۔ اچھے خطوط ادب پاروں کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ اردو نٹر کی روایت میں غالب شبلی، مہدی افادی ، چودھری محمد علی رو دوں رشید احمد صدیقی ہنگو، میراجی اور ابوالکلام آزاد و غیرہ کے خطوط نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

मिर्जा ग़ालिब 
مرزا غالب

1797 से 1869

نے نثر نگاری کا آغاز فارسی سے کیا۔ ان کی تین کتابیں، بال آہنگ، مہر نیمروز اور دھنیہ قابل ذکر ہیں۔ اردو میں بھی ان کے س رسالے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے مختلف کتابوں پر دیباچے، تقریظیں اور کچھ متفرق تحریریں بھی لکھی تھیں۔ ان سب کی نثر عام طور پر صاف اور سادہ ہے لیکن ان کا سب سے بڑا نثری کا رنامہ ان کے خطوط ہیں ۔ غالب نے اردو گاری کو ایک نیا راستہ دکھایا۔ بقول حالی:

مرزا کی اردو مخط و کتابت کا طریقہ فی الواقع سب سے نرالا ہے۔ نہ مرزا سے پہلے کسی نے خط و کتابت میں اختیار کیا اور نہ ان کے بعد کسی سے اس کی پوری پوری تقلید ہوسکی ۔

غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ ان کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کے بہت دل چپ نقشے سمٹ آئے ۔ خاص طور پر 1857 کے آس پاس کا ماحول غالب کے خطوط میں جس تفصیل کے ساتھ رونما ہوا ہے ، اس کے پیش نظر یہ ایک تاریخی مواد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ غالب کے اردو خطوط کے دو مجموعے عود ہندی اور اردوئے معلے بہت مشہور ئے ۔ غالب نے جو اسلوب اختیار کیا تھا اس کی نقل کسی سے بھی ممکن نہ ہوسکی ۔ واقعہ نگاری ، منظر نگاری اور جذبات نگاری کی معمولی مثالیں ان کے خطوط میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طنز ومزاح کا عنصر بھی غالب کی نثر میں ایک خاص یت رکھتا ہے۔
نشی ہر گوپال نفتہ کے نام

صاحب

تم جانتے ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا واقع ہوا ؟ وہ ایک جہنم تھا کہ جس میں ہم تم باہم دوست تھے اور طرح طرح کے میں تم میں معاملات میر محبت در پایش آئے۔ شعر کہے، دیوان جمع کیے۔ اسی زمانے میں ایک بزرگ تھے کہ وہ ہمارے تمھارے دوست دلی تھے اور منشی نبی بخش ان کا نام اور حلیہ تخلص تھا۔ ناگاہ، نہ وہ زمانہ رہا، نہ وہ اشخاص ، نہ وہ معاملات ، نہ وہ اختلاط ، نہ ر چه صورت اس جنم کی بعینہ مثل پہلے جنم کے ہے، یعنی ایک خط میں نے منشی نبی البساط، بعد چند مدت کے دوسرا صاحب کو بھیجا، اس کا جواب مجھ کو آیا اور ایک خط تمھارا کہ تم بھی موسوم بخشی ہر گو پال و متخلص بہ تفتہ ہو، آج آیا اور میں جس شہر میں ہوں ، اُس کا نام بھی دتی اور اس محلے کا نام ملی ماروں کا محلہ ہے، لیکن ایک دوست اُس جنم کے دوستوں میں سے نہیں پایا جاتا واللہ احوظ نے کو مسلمان ، اس شہر میں نہیں ملتا۔ کیا امیر، کیا غریب، کیا اہل حرفہ اگر کچھ ہیں تو باہر کے ہیں۔ ہنود البتہ کچھ کچھ آیا

ہوگئے ہیں۔

اب پوچھو کہ تو کیوں کر مسکن قدیم میں بیٹھا رہا۔ صاحب بندہ! میں حکیم محمد حسن خاں مرحوم کے مکان میں نو دس برس سے کرایے پر رہتا ہوں اور یہاں قریب کیا بلکہ دیوار به دیوار میں گھر حکیموں کے اور وہ نوکر ہیں راجہ نرندر سنگھ بہادر والی پٹیالہ کے۔ را جانے صاحبان عالی شان سے عہد لے لیا تھا کہ ہر وقت غارت دہلی ، یہ لوگ بیچ رہیں۔ چناں چہ بعد فتح ، راجا کے سپاہی یہاں آئینچے اور یہ کوچہ محفوظ رہا ورنہ میں اور یہ شہر کہاں؟ مبالغہ نہ جانتا، امیر غریب سب نکل گئے ۔ جو رہ گئے تھے، وہ نکالے گئے۔ جاگیردار، پاشن دار، دولت مند، اہل حرفہ، کوئی بھی نہیں ہے۔ مفضل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں ۔ ملا زمان قلعہ پر شدت ہے۔ اور بازپرسی اور دارد گیر میں مبتلا ہیں، مگر وہ لو کر جو اس ہنگام میں نوکر ہوئے ہیں اور ہنگامے میں شریک رہے ہیں۔ میں غریب شاعر در دس برس سے لکھنے اور شعر کی اصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں ، خواہی اُس کو نوکری سمجھو، خواہی مزدوری جانو ۔ اس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں ، میں نے دخل نہیں دیا۔ صرف اشعار کی خدمت بجالاتا رہا اور نظر اپنی بے گناہی پر ، شہر سے نکل گیا۔ میرا شہر میں ہوا

मकतूब नगारी का फ़न 
पहला ख़त 

منشی ہر کو پال تفتہ کے نام

حکام کو معلوم ہے، مگر چوں کہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات پائی نہیں گئی ، لہذا طلبی نہیں ہوئی۔ ور نہ جہاں بڑے بڑے جاگیردار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں، میری کیا حقیقت تھی۔ غرض کہ اپنے مکان میں بینا ہوں ، دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آدے، شہر میں ہے کون جو آوے؟ گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندو بست یاز دہم مئی سے آج تک یعنی شنبه پنجم دسمبر ۱۸۵۷ء تک یہ دستور ہے۔ کچھ نیک و بد کا حال مجھ کو نہیں معلوم بلکہ ہنوز ایسے امور کی طرف حکام کو توجہ بھی نہیں ۔ دیکھیے انجام کار کیا ہوتا ہے۔ یہاں باہر سے اندر کوئی بغیر ٹکٹ کے آنے جانے نہیں پاتا۔ تم زنبار یہاں کا ارادہ نہ کرنا۔ ابھی دیکھا چاہیے، مسلمانوں کی آبادی کا حکم ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ ہر حال منشی صاحب کو میرا اسلام کہنا اور یہ خط دکھا دینا۔ اس وقت تمھا را خط پہنچا اور اس وقت میں نے یہ خط لکھ کر ڈاک کے ہرکارے کو دیا۔

شنبه ۵ دسمبر ۱۸۵۷ء

(غالب)
दूसरा ख़त 

منشی نبی بخش حقیر کے نام

بھائی صاحب کا عنایت نامہ پہنچا۔ آپ کا ہاتھوں سے کول آجانا ہم کو معلوم ہو گیا تھا ۔ ہمارا ایک وقائع نگار اُس ضلعے میں رہا ہے۔ حق تعالی اُس کو جیتا رکھے۔

گرمی کا حال کیا پوچھتے ہو، اس ساٹھ برس میں یہ لو اور یہ دھوپ اور یہ پیش نہیں دیکھی۔ چھٹی ساتویں رمضان کو مینہ خوب برسا۔ ایسامینہ، جیٹھ کے مہینے میں بھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب مینہ کھل گیا ہے ۔ ابر گھر رہتا ہے ۔ ہوا اگر چلتی ہے تو گرم نہیں ہوتی اور اگر رک جاتی ہے تو قیامت آتی ہے ۔ دھوپ بہت تیز ہے ۔ روزہ رکھتا ہوں مگر روزے کو بہلائے رہتا ہوں کبھی پانی پی لیا، کبھی کہ پی لیا، کبھی کوئی ٹکڑا روٹی کا کھا لیا۔ یہاں کے لوگ عجب فہم اور طرفہ روش رکھتے ہیں۔ میں تو روزہ بہلاتا رہتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تو روزہ نہیں رکھتا۔ یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز ہے اور روزہ بہلانا اور بات ہے۔

جے پور کا حال آپ کو منشی صاحب کے اظہار سے یا ان کے نام کے خطوط دیکھ کر معلوم ہو گیا ہے ۔ مکر رکیوں لکھوں ۔ خیر

غنیمت ہے۔ یہ کیا فرض تھا کہ ہم جو چاہتے تھے ، وہی ہوتا۔

ہاں بھائی پرسوں کسی شخص نے مجھ سے ذکر کیا کہ ” اردو اخبار دہلی میں تھا کہ ہاتھرس میں بلوہ ہوا اور مجسٹریٹ زخمی ہو گیا۔ آج میں نے ایک دوست کے ہاں سے اس اخبار کا دو ورقا منگا کر دیکھا ۔ واقعی اس میں مندرج تھا کہ راہیں چوڑی کرنے پر اور حویلیاں اور دوکانیں ڈھانے پر بلوہ ہوا اور رعایا نے پتھر مارے اور مجسٹریٹ زخمی ہوا ۔ حیران ہوں کہ اگر ۔ یوں تھا تو صاحب وہاں سے چلا کیوں نہ آیا۔ اور اگر حاکم نہیں آیا تو آپ کیوں کر تشریف لائے ۔ ہوس نا کا نہ خواہش ہے کہ آپ اس حال کو مفصل لکھیے ۔

(غالب)
ग़ालिब का वास्तविक फोटो

Comments

Popular posts from this blog

बासनपीर मामले की हकीकत

इस ब्लॉग और मेरी अन्य व्यक्ति से हुई बातचीत पर मंहत प्रतापपुरी का बयान जीवनपाल सिंह भाटी की आवाज में सत्य घटना सद्भावना रैली बासनपीर जूनी पूर्व मंत्री सालेह मुहम्मद का बयान बासनपीर जूनी के सत्य एवं जैसाने की अपनायत की पड़ताल -  पिछले कुछ दिनों से जैसलमेर के बासन पीर इलाके का मामला सामने रहा है। कहा जा रहा है कि पूर्व राज परिवार की जमीन पर बासनपीर गांव के लोगों द्वारा कब्जा किया जा रहा है। नजदीक से पड़ताल करने पर हकीकत कुछ ओर निकली। जिसके कुछ तथ्य निम्नानुसार हैं - रियासत काल में सन 1662 में बीकानेर और जैसलमेर रियासत के बीच युद्ध हुआ। इस युद्ध में जैसलमेर सेना के दो वीर योद्धा सोढ़ा जी और पालीवाल जी शहीद हो गए। युद्ध के बाद बासन पीर (युद्ध स्थल) तालाब की तलहटी पर शहीदों की स्मृति में छतरियां बनवाई हैं। जैसलमेर के चारों और 120 किलोमीटर इलाके में 84 गांव पालीवाल ब्राह्मणों ने बसाए जिनमें से एक गांव बासनपीर जूनी भी था। पालीवाल ब्राह्मण समृद्ध किसान और व्यापारी थे, रियासत के दीवान सालिम सिंह से अनबन के कारण सन् 1825 में सभी गांव खाली करने को मजबूर हो गए। पालीवाल...

✍️कायम वंश और कायमखानी सिलसिला सामान्य इतिहास की टूटी कड़ियाँ

कायमखानी समाज कुछ कही कुछ अनकही👇 - शमशेर भालू खां  अनुक्रमणिका -  01. राजपूत समाज एवं चौहान वंश सामान्य परिचय 02. कायम वंश और कायमखानी 03. कायमखानी कौन एक बहस 04. पुस्तक समीक्षा - कायम रासो  05. कायम वंश गोत्र एवं रियासतें 06. चायल वंश रियासतें एवं गोत्र 07. जोईया वंश स्थापना एवं इतिहास 08. मोयल वंश का इतिहास 09. खोखर वंश का परिचय 10. टाक वंश का इतिहास एवं परिचय  11. नारू वंश का इतिहास 12 जाटू तंवर वंश का इतिहास 13. 14.भाटी वंश का इतिहास 15 सरखेल वंश का इतिहास  16. सर्वा वंश का इतिहास 17. बेहलीम वंश का इतिहास  18. चावड़ा वंश का इतिहास 19. राठौड़ वंश का इतिहास  20. चौहान वंश का इतिहास  21. कायमखानी समाज वर्तमान स्थिति 22. आभार, संदर्भ एवं स्त्रोत कायम वंश और कायमखानी समाज टूटी हुई कड़ियां दादा नवाब (वली अल्लाह) हजरत कायम खां  साहब   नारनौल का कायमखानीयों का महल     नारनौल में कायमखानियों का किला मकबरा नवाब कायम खा साहब हांसी,हरियाणा   ...

✅इस्लाम धर्म में व्यापार, ब्याज एवं मुनाफा

अरब व्यापारी हर देश में हर देश का हर एक सामान खरीदते और बेचते थे। अरब में व्यापार -  किसी भी क्षेत्र में सभी सामान उपलब्ध नहीं हो सकते। हर क्षेत्र का किसी ना किसी सामान के उत्पादन में विशेष स्थान होता है। उपलब्ध सामग्री का उत्पादन, भंडारण, परिवहन एवं विपणन ही व्यापार कहलाता है। क्षेत्र अनुसार इसके अलग - अलग नाम हो सकते हैं। इस्लाम धर्म का उदय अरब में हुआ। अरब क्षेत्र में तीन प्रकार की जनजातियां रहती थीं। बायदा - यमनी  अराबा - कहतानू (मिस्र) मुस्ता अराबा - अरबी (इस्माइली) यह जनजातियां खेती, व्यापार एवं अन्य कार्य करती थीं। हजारों सालों से इनका व्यापार रोम, चीन एवं अफ्रीका के देशों से रहा। अरब व्यापारी पश्चिम में अटलांटिक महासागर से लेकर पूर्व में अरब सागर तक, अरब प्रायद्वीप तक व्यापार करते थे। अरब नील से ह्यांग्हो तक व्यापार करते थे। अरब प्रायद्वीप कई व्यापार मार्गों के केंद्र में स्थित था, जिसमें दक्षिण पूर्व एशिया, भूमध्य सागर और मिस्र शामिल थे। यहां मुख्य सभ्यताएं रहीं -  - सुमेरियन एवं बेबीलोन  सभ्यता (मेसोपोटामिया/इराक) (दजला फरात) की सभ्यता। - फ...